نئی دہلی،23دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) دہلی میڈیکل کونسل نے دو جڑواں بچوں میں سے ایک زندہ بچے کو مردہ قرار کرنے کے سلسلے میں طبی لاپرواہی کے معاملے میں شالیمار باغ واقع میکس ہسپتال کے نو ڈاکٹروں اور دو نرسوں کو ایک نوٹس بھیجا ہے۔. غور طلب ہے کہ ہسپتال نے غلطی سے زندہ بچہ کو بھی مردہ قرار دے دیا تھا ۔ کونسل کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہسپتال کے طبی سپرنٹنڈنٹ کے ذریعے نو ڈاکٹروں اور دو نرسوں کو نوٹس بھیجا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل ذرائع ابلاغ سے موصولہ اطلاع کی بنیاد پر ہم نے میکس ہسپتال سے جواب طلب کیا تھا ۔ اور انہوں نے تقریبا ایک ہفتہ قبل اس کا جواب بھی دیا تھا۔ اس بار ہم نے ڈاکٹروں اور نرسوں سے ذاتی نوعیت پر مبنی جواب طلب کی ہے ۔ واضح ہوکہ میکس ہسپتال نے 30 نومبر کو جڑواں بچوں کی پیدائش کے بعد دونوں کو مردہ قراردیا تھا جب کہ اس میں ایک نوزائیدہ زندہ ہی تھا ۔ اس کے زندہ ہونے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ’انتم سنسکار ‘ کے وقت زندہ بچے نے اپنا پیر ہلاکر ڈاکٹروں کی غفلت سے پردہ اٹھایا تھا ۔ بچہ کے زندہ ہونے کے بعد فورا اسے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں اس زندہ بچ جانے والے نوزائیدہ کی بھی موت ایک ہفتہ کے بعد ہوگئی ۔ ڈی ایم سی نے نوٹس میں کہا ہے کہ اس سلسلے میں شالیمار باغ واقع میکس ہسپتال کے ڈاکٹروں کی جانب سے مبینہ طبی لاپرواہی کو لے کر دہلی میڈیکل کونسل نے ذرائع ابلاغ کی خبروں پر از خود نوٹس لیا ہے ۔ طبی ادارے نے یہ بھی کہا کہ وہ مبینہ لاپرواہی کی تحقیقات کر ر ہا ہے ۔